اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے عراق کے معروف خاندانِ حکیم کے سرکردہ شخصیت حوزہ علمیہ نجف اشرف کے عظیم استاد اور عراق کے معروف مرجع تقلید حضرت آیت اللہ العظمی السید محمد سعید الحکیم کے وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ العظمیٰ السید محمد سعید الحکیم کی وفات عالم اسلام کا بڑا نقصان ہے ،مرحوم نجف اشرف کے چار سرکردہ مراجع میں سے ایک تھے اور پورے عالم اسلام میں ان کے چاہنے والے موجود ہیں ان کی علمی، دینی ، فلاحی خدمات کا دائرہ پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہم پاکستانی عوام کی جانب سے الحکیم خاندان، پسماندگان اور عقیدت مندوں کے ساتھ دل کی اتہاہ گہرائیوں سے اظہار تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہاکہ حضرت آیت اللہ العظمی السید محمد سعید الحکیم کی بہت سی تصانیف تھیں جو علمی حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز تھیں وہ اتحاد و حدت کے زبر دست داعی تھے اور الحکمة فاونڈیشن کے ذریعے دنیا بھر میں فلاحی کاموں میں اپنی مثال آپ تھے ،اس الحکمة فاونڈیشن کے پلیٹ فارم پر پاکستان میں بھی 2020ء اور اس سے قبل آنے والے سیلاب کے متاثرین کی امداد کی اور ان کی بحالی کے لئے مختلف نوعیت کے امدادی پیکج ، مکانات اور نہایت مشکل گھڑی میں مستحقین کی سرپرستی کی جس کے آثار آج بھی موجود ہیں ۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت آیت ا۔۔ہ العظمیٰ سید محمدسعید الحکیم طاب ثراہ کی مرجعیت آپ نوجوانی سے ہی تدریس وتالیف میں شہرت یافتہ تھے آپ نے اپنا سارا وقت حوزہ علمیہ نجف کے جوان طلاب کے علمی معیار کو بلند کرنے کی راہ میں صرف کردیا چنانچہ آپ انھیں درس دیتے اور ان کی علمی صلاحیتوں کو بڑھاوا دیتے جس کے باعث بہت سے طلاب وفضلاء اعلیٰ علمی سطح تک پہنچ گئے اور مختلف مقامات پر دینی خدمات سرا نجام دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ ان کی اخلاقی تربیت کا بھی بے حد خیال رکھتے تا کہ تقوی و پرہیزگاری سے متصف رہیں اور اپنی تالیف وتصنیف اورتحقیق کے ذریعہ حوزہ علمیہ نجف کا نام روشن کرنے میں کر دار ادا کریں۔آخر میں ایک بار پھر انہوںنے پسماندگان ،فرزندگان جن کا شمار فاضل علماء میں ہوتا ہے حجة السلام سید عزالدین الحکیم اور حجة السلام سید ریاض الدین الحکیم اور دوسرے فرزندان و خاندان اور عقیدت مندوں کو تعزیر و تسلیت پیش کی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲